نئی ماؤں میں ڈپریشن اور خودکشی کا رجحان

Updated: Aug 19



ماں بننا دنیا کا خوبصورت ترین احساس قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن زچگی سے متعلق معاملات اب خواتین میں ذہنی امراض کے مسائل کا سبب بنتے جارہے ہیں۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کی 2018 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پرانٹل مینٹل ہیلتھ ایشوزکافی تشویش ناک صورت اختیار کر چکے ہیں اور اگر فوری توجہ نادی گئی تو نئی ماثومیں خود کشی کے کیسزمیں اور اضافے کی پیشینگوئی ہے۔

سینٹر فار مینٹل ہیلتھ کی ایک رپورٹ دی کاسٹ آف پیرینٹال مینٹل ہیلتھ پرابلمز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 فیصد کے قریب خواتین حمل کے دوران یا پھر بچے کی پیدائش کے ایک سال کے عرصے کے اندر مختلف قسم کے ذہنی مسائل کا شکار ہوتی ہیں جسے عام طورپر زچگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی پریشانیاں کہا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ریسرچ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران یا پھر بچے کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد تک ماؤں میں شدید بے چینی کا ہونا بہت عام ہے۔ لیکن یہ بے چینی آکثراس حد تک بڑھ جاتی ہے وہ اپنے حالات سے تنگ آکر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتیں ہیں۔

مٹرنل مینٹل ہیلتھ الائنس کہ مطابق ہر نو ماؤں میں سے ایک ماں بچے کی پیدائش کے ایک سال کے عرصے میں ذہنی مسائل سے تنگ آکر خودکشی کرلیتی ہے۔ خواتین میں بڑھتی ہوئی بیچینی اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ معاشرے کا دوہرا رویہ ہے۔ آج کی عورت کو انتہائی متضاد صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو معاشرہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خواتین کچھ بھی کر سکتیں ہیں۔ وہ بھی اعلی تعلیم حاصل کرکے ایک کامیاب ورکنگ ویمن کی حیثیت سے خود کو منواسکتیں ہیں، انہیں بچے پیدا کرنے اور سماجی زندگی کابھی پورا حق حاصل ہے۔ غرض کے عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان میں اپنالوہا منواسکتی ہیں، لیکن دوسری طرف جب ایک عورت ماں بنتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ ایک ”اچھی ماں“ اپنے بچوں کی ہر ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ وہ بے لوس ہوتی ہے۔ اور اپنے بچوں سے نے پناہ محبت کرتی ہے۔ ماں اپنی ہر خواہشات کو اپنے بچوں پر قربان کر دیتی ہے۔ ایک ”مثالی ماں“ ہر وقت اپنے بچوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

‏NatCen کے برطانوی معاشرتی رویوں پرایک سروے میں برطانوی معاشرے کے اس مبہم رویہ کو اور بھی تقویت ملتی۔ ہے۔ اس سروے کے مطابق 72 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ عورتوں کو کام کرنا چاہیے جبکہ 33 فیصد اس حق میں تھے کے ماؤں کوبھی نوکری بھی کرنا چاہیے۔ مطلب عورتیں کسی بھی حال میں جیت نہیں سکتیں ہیں۔

جہاں ایک طرف خواتین میں خود کو ہر شعبے میں منوانے کی جدوجہد زور و شور پر ہے وہاں ایک ”اچھی ماں“ کا کردار نبھانا خاصا مشکل عمل ہے۔ ایک عورت جو کئی سال انتھک محنت کرکے اپنی ایک پہچان بناتی ہے، بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس سے عام طور پر یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی شناخت کو بھلا کر ایک ”مثالی ماں“ کا کردار ادا کرنے میں جت جائے۔

پیپارس چیریٹی جو کہ برطانیہ کے نوجوانوں میں خود کشی کے رجحان کی روک تھام میں مصروف ہے، کا کہنا ہے کہ ان کی ہوپ لائین یو کے پر مدد کے لئے فون کرنے والی مائیں خود کو بری طرح جکڑا ہوا محسوس کرتی ہیں۔ وہ اکثر یہ شکایت کرتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد وہ پوری طرح سے پھنس چکی ہیں اور ان کی پہچان ایک ماں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ او مشکلات سے نجات کا حل انھیں صرف اور صرف اپنی زندگی کو ختم کرنے میں ہی نظرآتا ہے۔ اگر انٹر نیٹ پر ”ماں“ کی تلاش کریں تو کچھ ایسا دیکھنے میں آئے گا کہ سب مائیں اپنے بچوں کو خود سے لپٹائے ہوے ہیں۔ ماں اور بچہ بہت زیادہ خوش ہیں۔ یہ سچ نہیں ہے۔ اس طرح ایک پریشان ماں پر معاشرتی دباؤ ڈالا جاتا ہے کے اسے ہر حال میں اپنے بچے کے ساتھ ہمیشہ خوشی محسوس ہونی چاہیے۔ جس کی وجہ سے بیشتر ماتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ”اچھی ماں“ نہیں ہیں۔

اگر آپ ایک ایسی ماں ہیں جو بچے کی پیدائش سے پہلے یا پیدائش کے بعد کیسی بھی قسم کا ذہنی دباؤ محسوس کررہی ہیں یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو بچے کی کچھ حرکتوں پر پیار نہیں آتا یا کبھی ایسا بھی سوچتی ہیں کہ کاش اپ کبھی ماں ہی نہیں بنتیں، تو ماہرذہنی امراض کا کہنا ہے کہ یہ ایک عام سی بات ہے اوراکثر مائیں ایسا سوچتی ہیں لیکن وہ اس بات کا عتراف کرتے ہوئے ڈرتی ہیں۔ اس بات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یقیناً نوجوان ماؤں کی ایک بڑی تعداد کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے لیکن وہ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اس بات کا اظہار کرنے میں ندامت محسوس کرتی ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ معاشرہ اور خود ان کے اپنے خاندان والے ان کے بارے میں کیا سوچیں گے؟

معاشرے کو بھی ایک ”اچھی ماں“ کی گردان کرنے سے پہلے اس بات کواچھی طرح سے سمجھنا چاہیے کہ ایک خاتون جو معاشرتی اور معاشی طور پر مرد کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کامیابیوں کا سفر طے کررہی ہے وہ بچے کی بیدائش کے فوراً بعد اپنی ہر شناخت بھول کر صرف اور صرف ایک ”ماں“ کو اپنی پہچان نہیں بنا سکتی۔ ۔ نیشنل ہیلتھ سروسز کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ مائیں پیدائش کے بعد اکیلی گھر جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے آدھے سے زیادہ خواتین ماں بننے اور حاملہ ہونے کی تکالیف اٹھانے کے باوجود اپنے نوزائیدہ بچے کی قربت سے محروم کردی جاتی ہیں کیونکہ وہ ذہنی طور پر پریشان ہوتی ہیں۔ کیا ایسا کرنے سے وہ مزید ذہنی امراض کا شکار نہیں ہوجاہیں گیں؟ لیکن کون ہے جواس بات کو سمجھنے کی زحمت کرے۔ ہاں اس بات پر ضرور زور دیا جاتا ہے کہ ایک مرد کے ازدواجی حقوق کس قدر اہم ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لیے وہ کس حد تک اپنی مردانگی کا مظاہرہ کرنے کا مذہبی اور قانونی طور پر حقدار ہے۔

معاشرتی طور پر بھی اس سوچ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک ماں بھی انسان ہے اور یہ کہ وہ کیسا محسوس کرتی ہے۔ اگر ایک کی اپنی صحت پھر چاہے وہ ذہنی صحت ہو یا جسمانی یا پھر دونوں اچھی نہیں ہے تو وہ ایک نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال اچھی طرح کرنے میں دقّت محسوس کرے گی۔ اور بہت ممکن ہے کہ اس کے ذہن میں یہ بات بھی جنم لے کہ وہ کبھی بھی ماں نہیں بنتی۔ یہ ایک عام سی بات ہے اورزیادہ تر مائیں ایسا ہی محسوس کرتی ہیں۔ وہ صرف اس خوف سے اس بارے میں بات نہیں کرتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ سماجی طور پرایسا قابل قبول نہیں ہے۔

یہ ایک نئی ماں کے لئے واقعی مشکل ہے کہ وہ کیسے محسوس کرے۔ اکثر مائیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ وہ بہت مشکل صورت حال سے دو چار ہیں یا یہ کہ وہ اس نئے رشتے سے لطف اندوز نہیں ہورہی ہیں، ان کے لئے اس بات کا اقرار کرنابہت شرم اور ندامت کا باعث ہوتا ہے۔ اور یہی ان میں خودکشی کے رجحان کا سبب بھی بنتا ہے۔ پیپارس کا کہنا ہے کہ خودکشی یا خودکشی کی طرف رغبت سے بچنے کے لئے خواتین کو اپنے مسائل پر کھل کربات کرنی چاہیے


https://www.humsub.com.pk/248347/azra-syed/

©2020 by Azra Syed